Islamic Articles (Urdu)

Muharram Aur ashura ki fazeelat

یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت
1۔ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی اللہ عنہ : رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَصُومُ؟، ‏‏‏‏‏‏” فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، ‏‏‏‏‏‏وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، ‏‏‏‏‏‏وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، ‏‏‏‏‏‏نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ” لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ “، ‏‏‏‏‏‏أَوَ قَالَ:‏‏‏‏ ” لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ” وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ” ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ” وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ “، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ”.

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا کہ آپ کیونکر رکھتے ہیں روزہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے (یعنی اس لیے کہ یہ سوال بے موقع تھا۔ اس کو لازم تھا کہ یوں پوچھتا کہ میں روزہ کیونکر رکھوں) پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو عرض کرنے لگے: “رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِہم” (راضی ہوئے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔”غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار ان کلمات کو کہتے تھے یہاں تک کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھم گیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! جو ہمیشہ روزہ رکھے وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔”پھر کہا جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایسی طاقت کس کو ہے۔ یعنی اگر طاقت ہو تو خوب ہے پھر کہا: جو ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا، پھر کہا: جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے۔ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں آرزو رکھتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت ہو۔”یعنی یہ خوب ہے اگر طاقت ہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تین روزے ہر ماہ میں اور رمضان کے روزے ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان تک یہ ہمیشہ کا روزہ ہے یعنی ثواب میں اور عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں ایک سال اگلے کا کفارہ ہو جائے۔”(6)

(6)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : ہر مہینے تین دن کے روزے اور یوم عرفہ کا روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان ۔حدیث نمبر:2746۔

واضح رہے کہ ‘عاشوراء’ عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس 10، اور محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔ البتہ مذکورہ فضیلت دسویں تاریخ کے روزے کی ہے یا نویں کی، اس میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے…

2۔عَنْ ام المؤمنین عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ” مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ “،‏‏‏‏

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قریش عاشورے کے دن روزہ رکھتے تھے ایام جاہلیت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو ہجرت کی روزہ رکھا اور اس دن روزے کا حکم فرمایا پھر جب رمضان فرض ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو چاہے اب عاشورے کو روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔”(7)

(7)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2637۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ ” أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ شَاءَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ”.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عاشورے کا روزہ جاہلیت میں رکھا جاتا تھا پھر جب اسلام آیا تو اب چاہے کوئی رکھے چاہے چھوڑ دے۔(8)

(8)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2639۔

أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ”.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے تھے اس کے روزے کا (یعنی عاشورے کا) جب رمضان فرض نہیں ہوا تھا پھر جب رمضان فرض ہوا تو یہ حکم ہوا کہ جس کا جی چاہے وہ عاشورے کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔(9)

(9)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2640

أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ:‏‏‏‏ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْهُ”.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قریش عاشورے کو روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حکم فرمایا اس کے روزے کا یہاں تک کہ جب رمضان فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو چاہے اس میں روزہ رکھے جو چاہے افطار کرے۔”(10)

(10)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2641

3۔عَنْ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ “،‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اہل جاہلیت عاشورے کو روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھا اور مسلمان بھی رمضان فرض ہونے سے پہلے رکھتے تھے پھر جب رمضان فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”عاشورہ اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے اس میں روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔”(11)

(11)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1126۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ جاہلیت میں قریش دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر سال ماہِ محرم کی اس تاریخ کو بیت اللہ کو غلاف پہنایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ایک حدیث میں ہے:

عن جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَرِنِي إِزَارِي، ‏‏‏‏‏‏فَشَدَّهُ عَلَيْهِ”.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ (زمانہ جاہلیت میں) جب کعبہ کی تعمیر ہوئی تو نبی کریم ﷺ اور عباس ؓ بھی پتھر اٹھا کر لا رہے تھے ۔ عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ اپنا تہبند اتار کر کاندھے پر ڈال لو (تاکہ پتھر اٹھانے میں تکلیف نہ ہو) نبی کریم ﷺ نے ایسا کیا تو ننگے ہوتے ہی بیہوش ہو کر آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں ۔ آپ کہنے لگے مجھے میرا تہبند دے دو ۔ پھر آپ ﷺ نے اسے مضبوط باندھ لیا ۔(12)

(12)۔صحیح بخاری / کتاب: حج کے مسائل کا بیان / باب : فضائل مکہ اور کعبہ کی بناء کا بیان ۔حدیث نمبر: 1582

لیکن اس پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش غلافِ کعبہ کے لئے یہی دن کیوں خاص کرتے تھے؟ تو اس کا جواب (اور پہلے سوال ہی کا دوسرا جواب) یہ ہوسکتا ہے جو حضرت عکرمہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

“دورِ جاہلیت میں قریش نے ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کیا جو ان پر بڑا گراں گزرا تو ان سے کہا گیا کہ تم لوگ عاشورا کا روزہ رکھو یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ پھر اس وقت سے قریش عاشوراء کا روزہ رکھنے لگے۔”(13)

(13)۔ملاحظہ فرمائیں:فتح الباری: 4؍773، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء

4۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا يَعْنِي عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ”.

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں (یہودیوں) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو (اس کے لشکر سمیت بحیرہ ٔقلزم میں غرقاب کیا) غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا۔(14)

(14)۔صحیح بخاری / کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں / باب : اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ طہٰ میں ) فرما”اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا” ۔حدیث نمبر: 3397۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ “۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں اور لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیوں روزہ رکھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن ہے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ دیا، اس لیے آج ہم روزہ دار ہیں اس کی تعظیم کے لیے (یعنی اللہ پاک کی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم تم سے زیادہ دوست ہیں اور قریب ہیں موسیٰ علیہ السلام کے۔”پھر حکم دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے روزے کا۔(15)

(15)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1130۔

5۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ”.

ابن عباس رضی اللہ عنھمانے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سوا عاشوراء کے دن کے اور اس رمضان کے مہینے کے اور کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل جان کر خاص طور سے قصد کر کے روزہ رکھتے نہیں دیکھا ۔(16)

(16)۔صحیح بخاری / کتاب: روزے کے مسائل کا بیان / باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟،حدیث نمبر: 2006

وَسُئِلَ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ” مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ “، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ رَمَضَانَ۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا عاشورے کا تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو کسی دن کا اور دنوں میں سے اسی دن کی بزرگی ڈھونڈنے کو سوا اس دن کے اور کسی ماہ کا سوا ماہ رمضان کے (یعنی دونوں میں عاشورے اور مہینوں میں رمضان کو بزرگ جانتے ہیں)۔(17)

(17)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2662۔

6۔عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَصُومُوهُ أَنْتُمْ”.

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو ۔”(18)

(18)۔صحیح بخاری / کتاب: روزے کے مسائل کا بیان / باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟حدیث نمبر: 2005،صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1131۔

7۔عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” فَصُومُوهُ أَنْتُمْ”.

ابوموسیٰ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہود روزہ رکھتے تھے عاشورے کے دن اور اس دن عید ٹھہراتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے تھے اور ان کو سنوارتے تھے اور سنگارتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” تم لوگ بھی روزہ رکھو ۔ “(19)

(19)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2661

8۔ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ”.

سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنو اسلم کے ایک شخص کو لوگوں میں اس بات کے اعلان کا حکم دیا تھا کہ :”جو کھا چکا ہو وہ دن کے باقی حصے میں بھی کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے نہ کھایا ہو اسے روزہ رکھ لینا چاہئے کیونکہ یہ عاشوراء کا دن ہے ۔”(20)

(20)۔صحیح بخاری / کتاب: روزے کے مسائل کا بیان / باب : اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟حدیث نمبر: 2007۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : جس نے عاشورہ کے دن ( صبح ) کھانا کھا لیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی ماندہ دن کھانے سے رکا رہے ۔حدیث نمبر: 2668

9۔عن عَبْدِ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ “، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب روزہ رکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورے کے دن کا اور حکم کیا اس کے روزے کا تو لوگوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ! یہ دن تو ایسا ہے کہ اس کی تعظیم کرتے ہیں یہود و نصاریٰ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب اگلا سال آئے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم نویں تاریخ کا روزہ رکھیں گے۔”آخر اگلا سال نہ آنے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔(21)

(21)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے ۔حدیث نمبر: 1134
‏‏‏‏
10۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ” لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ، ‏‏‏‏‏‏لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ “، ‏‏‏‏‏‏وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:”اگر میں باقی رہا سال آئندہ تک تو روزہ رکھوں گا میں نویں تاریخ کوبھی۔”اور ابوبکر کی روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے کہا: مراد اس سے یومِ عاشوراء ہے۔(22)

(22)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے ۔حدیث نمبر: 2667

روزہ نو محرم کو یا دس کو

عاشورا کے روزے کے بارے میں اہل علم کا شروع سے ہی اختلاف چلا آرہاہے کہ یہ روزہ نو تاریخ کو رکھا جائے یا دس کو ؛ یا نو اور دس دونوں کے روزے رکھے جائیں؟وجہ ِاختلاف صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث (نمبر9) ہے جس میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کے پیش نظر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ :

” فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ “،

“آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔”(23)

(23)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے ۔حدیث نمبر: 1134

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اگرچہ آنحضرت ﷺکو عملی طور پر نو کا روزہ رکھنے کا موقع نصیب نہ ہوسکا تاہم آپﷺ کا یہ فرمان دسویں محرم کے روزے کے لئے بطورِ ناسخ ہے اور اب صرف اور صرف نو ہی کا روزہ رکھنا چاہئے۔ جبکہ بعض اہل علم اس کے برعکس اس موقف کے حامل ہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اصل فضیلت والا دن تو دسویں محرم کا ہے۔ جبکہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی شامل ہوجائے گا اور اس طرح دونوں صورتوں یعنی فضیلت ِعاشوراء اور مخالفت ِیہود و نصاریٰ پر عمل ہوجائے گا۔ لہٰذا نو اور دس دونوں تاریخوں کے روزے از بس فضیلت کے لئے ضروری ہیں۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وسعت پائی جاتی ہے، اس لئے مندرجہ دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صو رت کے ساتھ ہی اسے خاص کردینا اور اس کے برعکس دوسری کو غلط قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں کے الگ الگ مضبوط دلائل موجود ہیں ، مثلاً:

عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ:‏‏‏‏ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ” إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ۔

حکم بن اعرج نے کہا: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا اور وہ تکیہ لگائے بیٹھے تھے اپنی چادر پر زمزم کے کنارے سو میں نے کہا: خبر دیجئیے مجھ کو عاشورے کے روزے سے۔ انہوں نے فرمایا: جب تم چاند دیکھو محرم کا تو تاریخیں گنتے رہو۔ پھر نویں تاریخ ہو اس دن روزہ رکھو۔ میں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔(25)

(25)۔صحیح مسلم / روزوں کے احکام و مسائل / باب : عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے ۔حدیث نمبر: 1133

اگرچہ آنحضرتﷺ دسویں محرم کو روزہ رکھتے رہے مگر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نویں محرم کے روزے کی نسبت اللہ کے رسول ﷺکی طرف اس لئے کردی کہ آنحضرتﷺ یہ فرما چکے تھے کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا۔ گویا اب نویں کو ہی کو سنت سمجھا جائے گا، اگرچہ عملی طور پر حضور کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ آپﷺ نو کا روزہ رکھتے۔

دس کا روزہ رکھنے والوں کی پہلی دلیل تو یہی ہے کہ اصل فضیلت والا دن دس محرم ہے اور اسی دن آنحضرتﷺ اور صحابہ کرامؓ روزہ رکھتے رہے۔تاہم اللہ کے رسولﷺ کا یہ فرمان کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا، اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ میں دس کا روزہ چھوڑ دوں گا۔ بلکہ آپﷺ کی مراد یہ تھی کہ دسویں کے ساتھ نویں کا بھی روزہ رکھوں گا تاکہ یہود و نصاریٰ کی بھی مخالفت ہوسکے۔

اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ایک روایت سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے :

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍرضی اللہ عنھما قَالَ:‏‏‏‏ ” أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ يَوْمُ الْعَاشِرِ “.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(26)

(26)۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابو داؤد (2113) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔السنن الکبری للبیہقی : صفحہ:278/جلد چہارم۔شیخ احمد عبدالرحمن البنائؒ نے اس موقوف روایت کی سند کو صحیح قرار دیاہے۔(الفتح الربانی :1؍189، مصنف عبدالرزاق؛7839، طحاوی:2/78(

اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی یہ حدیث بھی ذکرکی جاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“لإنْ بقيتُ لآمرنَّ بصيامِ يومٍ قبله أو يومٍ بعد يومِ عاشُوراء”

“اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو میں یہ حکم ضرور دوں گا کہ دسویں محرم سے پہلے یا اس کے بعد (یعنی گیارہویں محرم) کا ایک روزہ (مزید) رکھو۔”(27)

(27)۔یہ روایت مسندحمیدی (485) اور سنن کبریٰ از بیہقی (4؍287) میں موجود ہے مگر اس کی سند میں ابن ابی لیلی (جن کا نام محمد بن عبدالرحمن ہے) ضعیف راوی ہے۔ جبکہ امام ابن عدی نے یہ روایت ‘الکامل’ (3؍956) میں درج کی ہے اور اس کی سند میں داود بن علی نامی راوی کو ضعیف قرار دیاہے۔

ایک تیسری صورت

بعض اہل علم مندرجہ بالا اختلاف سے بچتے ہوئے ایک تیسری صورت یہ پیش کرتے ہیں کہ نو، دس اور گیارہ تینوں تاریخوں کے پے در پے روزے رکھ لئے جائیں۔ بطورِ دلیل عبداللہ بن عباسؓ سے مروی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا”

“یومِ عاشورا کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ (اس مخالفت کا طریقہ یہ ہے کہ) یوم عاشورا (دس محرم) کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھو۔”(28)

(28)۔مسند احمد بتحقیق احمد شا کر، حدیث: 2154 و مجمع الزوائد: 434/3، مطبوعۃ دارالفکر، 1414ھ/1994، ابن خزیمہ (2095) ، الکامل (3؍956)، السنن الکبریٰ للبیہقی (4؍287) وغیرہ میں موجود ہے مگر اس کی سند میں بھی ابن ابی لیلیٰ اور داود بن علی نامی دو راوی ضعیف ہیں لہٰذا یہ قابل حجت نہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ روایت میں ‘أو'(قبلہ یوما ‘أو’ بعدہ یوما) بمعنی ‘یا’ ہے۔ جبکہ بعض طرق میں یہاں ‘و’بمعنی ‘اور’ ہے۔جس کے پیش نظر بعض اہل علم نے تین دن (9،10،11) کے روزے رکھنے کا رجحان ظاہر کیا ہے۔(29)

(29)۔دیکھئے فتح الباری:4؍773،مگر محل استشہاد روایت ہی ضعیف ہے، اس لئے یہ موقف کمزور ہے۔

احتیاط کا تقاضا
مذکورہ اختلافی مسئلہ میں اگر احتیاط کا پہلو مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے کیونکہ اگر شریعت کی منشا نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنے میں ہوئی تو اس پر عمل ہوجائے گا اور اگر نو کا روزہ
رکھنے میں ہوئی تو تب بھی نو کا روزہ رکھا جائے گا اور دس کا روزہ اضافی نیکی قرار پائے گا۔ علاوہ ازیں اس طرح یوم عاشوراء کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کی مخالفت دونوں ہی پر عمل بھی ہوجائے گا جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ رقم طراز ہیں کہ:
“وقال بعض أهل العلم: قوله صلى الله عليه وسلم في صحيح مسلم: لإن عشتُ إلی قابل لأصومنّ التاسع، يحتمل أمرین أحدهما: أنه أراد نقل العاشر إلی التاسع، والثاني: أراد أن يضيفه إليه في الصوم، فلما توفي قبل بيان ذلك کان الاحتياط صوم اليومين”

“بعض اہل علم کے بقول صحیح مسلم میں مروی اس حدیث نبوی کہ ’’اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو کا ضرور روزہ رکھوں گا۔‘‘ کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺکی مراد یہ تھی کہ یوم عاشوراء کے روزہ کے لئے دس کی بجائے نو کا روزہ مقرر کردیا جائے اور دوسرا یہ کہ آپﷺ دس کے ساتھ نو کا روزہ بھی مقرر فرمانا چاہتے تھے۔ (اب اگر آنحضرتﷺ اس کے بعد اگلے محرم تک زندہ رہتے تو آپﷺ کے عمل سے مذکورہ دونوں صورتوں میں سے ایک صورت ضرور متعین ہوجاتی) مگر آپﷺ کسی صورت کو متعین کرنے سے پہلے وفات پاگئے تھے، اس لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے۔”(30)

(30)۔فتح الباری: ایضاً

http://www.askislampedia.com/ur/wiki/-/wiki/Urdu_wiki/محّرم+الحرام+کے+فضائل+ومسائل+اور+صوم%D9%90+عاشوراء

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *